ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک حجاب معاملہ؛ ہائی کورٹ کے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی کے الزام میں دوافرادگرفتار۔ججوں کو ’’Y‘‘سیکوریٹی فراہم کرنے کا فیصلہ

کرناٹک حجاب معاملہ؛ ہائی کورٹ کے ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی کے الزام میں دوافرادگرفتار۔ججوں کو ’’Y‘‘سیکوریٹی فراہم کرنے کا فیصلہ

Sun, 20 Mar 2022 21:16:07    S.O. News Service

بنگلورو، 20؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) حجاب معاملہ میں  کرناٹک ہائی کورٹ کی ایک خصوصی بنچ  نے جو فیصلہ سنایا تھا، اُس کی مخالفت میں   خبر ملی تھی کہ اُن ججوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے، اس   ضمن میں  پولس نے  دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کووئی رحمت اللہ  نامی ایک شخص کو ترونیل ویلی سے گرفتار کیا گیا، جبکہ ایس جمال محمد عثمانی کو تنجور سے حراست میں لیا گیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ دونوں کو ہفتے کی رات گرفتار کیا گیا ۔ گرفتار شدہ دونوں کا تعلق تمل ناڈو توحید جماعت (TNTJ) سے بتا یا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں کرناٹک اور تمل ناڈو میں ملزمین کے خلاف کئی شکایات کے بعد عمل میں  آئی ہیں ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں کئی لوگوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ  گزشتہ ہفتہ کرناٹکا  ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین کی خصوصی بنچ نے کلاس رومز میں حجاب پہننے کی اجازت دینے سے متعلق درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس فیصلہ کو لے کر تمل ناڈو میں کئی تنظیمیں مخالفت کر رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدہ  کووئی رحمت اللہ کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں وہ مبینہ طور پر کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کی کوشش کر رہا  تھا۔ اپنی تقریر میں ملزم نے  مبینہ طور پر جھارکھنڈ کے ایک ڈسٹرکٹ جج (جنہیں ایک ٹیمپو نے ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگ جانتے ہیں کہ کرناٹک کے چیف جسٹس صبح کی سیر کے لیے کہاں جاتے ہیں۔

دوسری طرف کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے اتوار کو کہا کہ ریاستی حکومت حجاب کیس میں درخواستوں کو خارج کرنے والے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی سمیت تین ججوں کو وائی زمرہ کی سکیورٹی فراہم کرے گی ۔


Share: